ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایران: حسن روحانی کی نئی کابینہ میں نہ کوئی خاتون نہ کوئی سنی رکن پارلیمان

ایران: حسن روحانی کی نئی کابینہ میں نہ کوئی خاتون نہ کوئی سنی رکن پارلیمان

Wed, 09 Aug 2017 16:54:16    S.O. News Service

تہران،9/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایران کے صدر حسن روحانی کی نئی کابینہ پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس میں صرف مرد اراکین پارلیمان کو وزارتیں دی گئی ہیں۔حسن روحانی کو ایران میں نسبتاً اعتدال پسند شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں چند خواتین کو بھی شامل کریں گے۔خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد سے صرف ایک خاتون کابینہ میں وزارت کے عہدے پر رہی ہیں۔

 ایران کی موجود کابینہ میں صرف نائب صدور کے عہدوں پر دو خواتین فائز ہیں۔ ایران کی پارلیمان میں 17خواتین ممبر ہیں۔نئی کابینہ کو ابھی پارلیمنٹ سے منظوری ملنی باقی ہے جبکہ حسن روحانی کی اس کابینہ میں کوئی سنی رکن پارلیمان بھی شامل نہیں ہے۔حسن روحانی نے اپنے حریف ابراہیم رئیسی کو مئی میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں 'مزید شہری آزادی' اور 'مغرب سے رشتے استوار کرنے کے نام پر شکست دی تھی۔فروری میں 'خواتین، اعتدال پسندی اور ترقی کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں انھوں نے سیاست اور ثقافت میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کی بات کی تھی۔انھوں نے خواتین کے حقوق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو وہ روزگار کے مواقعوں میں برابری لائیں گے اور خواتین کو ملازمت میں آنے کے مواقع فراہم کریں گے۔اب ان کے ناقد 68سالہ عالم پر اپنا عہد توڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنما مہدی کروبی جو ابھی قید میں ہیں ان کے بیٹے محمد کروبی نے ٹویٹ کیا کہ گذشتہ دو انتخابات میں عوام کا جو پیغام تھا اس کی جھلک مجوزہ کابینہ میں نہیں ہے۔ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ آپ خواتین اور مذہبی اقلیت کو نظر انداز کر کے پورے ملک میں مساوات کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟۔

خواتین امور کی سابق نائب صدر شاہین دوخت مولاوردی نے روزنامہ اعتماد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں خواتین کی عدم موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پانی پر چل رہے ہیں۔نئی کابینہ میں اعلیٰ وزارتوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ جواد ظریف وزیر خارجہ ہی ہیں اور اسی طرح بیجان نامدار کو وزیر تیل برقرار رکھا گیا ہے۔ جنرل عامر حاتمی کو نیا وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے اور اس سے پہلے وہ اسی وزارت میں نائب کے عہدے پر تھے۔اس کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر 35سالہ محمد جواد ہیں جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور انہیں ٹیلی کام کی وزارت سونپی گئی ہے۔1979میں اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک صرف ایک خاتون کسی وزارت کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔ مرضیح دستجردی سنہ 2009سے 2013تک احمدی نژاد کے دور حکومت میں وزارت صحت کے عہدے پر فائز رہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ اس منتخب کردہ کابینہ میں پارلیمان کی جانب سے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی کیوں کہ ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی منظوری کے بعد ہی ان تمام اہم عہدوں پر وزرا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
 


Share: